اپنی زندگیاں نئے سرے سے شروع کرنے کے لیے برطانیہ کی 35ملین پاؤنڈ کی مزید امداد (07/10/2009)
برطانوی ترقیاتی ادارے ڈیفیڈ نے اعلان کیا ہے کہ برطانوی حکومت چار سال پہلے رونما ہونے والے تباہ کن زلزلے سے متاثرہ افراد کو 35ملین پاؤنڈ کی مزید امداد فراہم کرے گی تاکہ وہ نئے سے اپنی زندگیاں شروع کرسکیں۔
یہ امداد تعمیر نو اور بحالی نو کے برطانوی حکومتی ادارے ’ایرا‘ اور دوسرے اداروں کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔
ان فنڈز کو دو لاکھ کے قریب افراد کے لیے زلزلے سے محفوظ رہنے والے گھروں اورزلزلے سے متاثرہ کمیونٹیز میں رابطہ قائم کرنے والے 50پلوں کی تعمیر پر صرف کیا جائے گا۔ برطانوی امداد کو 750سکولوں کی تعمیر اور 90ہزار بچوں کو تعلیم کا محفوظ ماحول مہیا کرنے پر بھی صرف کیا جائے گا تاکہ بچوں کو خیموں کی صورت میں مہیا سہولتوں پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
برطانیہ کی حالیہ امداد ڈیفیڈ کے موجودہ منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت زلزلے سے متاثرہ 35لاکھ افراد کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ یوں تعمیر نو اور بحالی نو کے لیے فراہم کی جانے والی کل امداد 84ملین پاؤنڈ ہوجائے گی۔
اس تباہی کے چار سال گزرنے پر ڈیفیڈ کے ملکی دفتر کے سربراہ جارج ترکنگٹن نے نئی رہائشی سکیموں اور سکولوں کا دورہ کیا تاکہ تعمیر نو کی سرگرمیوں میں پیش رفت کا اندازہ لگا سکیں۔
اس موقع پر جارج ترکنگٹن نے کہا’’حقیقی پیش رفت تو ہوچکی ہے اور ڈیفیڈ کو فخر ہے کہ یہ لوگوں کو مسلسل امداد کرنے والے اداروں میں سے ایک ہے۔‘‘
’’زلزلے کے خلاف مزاحمت رکھنے والے 80فیصد سے زائد مکانات تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ حکومت، ڈونرز اور سول سوسائٹی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ مل کر کام کرنے اور لوگوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کرنے سے بہت کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ اس نئی امداد کے نتیجے میں مقامی افراد یقینی طور پر یہ دیکھ پائیں گے کہ ایسے ہی غیر معمولی نتائج تعلیم اور دوسرے ترجیحاتی شعبوں میں بھی سامنے آئیں گے۔ ‘‘
لیفٹیننٹ جنرل سجاد اکرم ڈپٹی چیئرمین ’ایرا‘ نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا’’ہم ڈیفیڈ کے شکرگزار ہیں کہ اس نے امداد کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جو 2005میں آنے والے زلزلے سے متاثرہ خاندانوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کررہاہے۔ یہ اضافی فنڈز ہمیںیہ موقع فراہم کریں گے کہ ہم بقیہ منصوبوں پر کام کریں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے لیے ہماری بہترین پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنائیں۔
مدیروں کے نوٹس:
1 بین الاقوامی ترقی کا ادارہ ’ڈیفیڈ‘برطانوی حکومت کا ایک حصہ ہے اور غریب ملکوں کو حکومتی امداد فراہم کرنے اور غربت سے نجات کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔
2 پچھلے چار سالوں میں ڈیفیڈ نے پاکستان کو 665ملین پاؤنڈ مالیت کی امداد فراہم کی ہے اور 2011تک یہ برطانیہ کے دوسرے سب سے بڑے ترقیاتی منصوبے کی حیثیت اختیار کرلے گا۔ پاکستان میں ہماری ترجیحات میںشامل ہے کہ غریب لوگوں کے لیے بہتر صحت، تعلیم، افزائش اور معاش تک رسائی میں اضافہ کیا جائے اور حکومت کو زیادہ مؤثر بنایا جائے۔
نوٹس برائے ایڈیٹرز
ڈیفیڈ کے کمیونیکیشنز کے سربراہ کا نمبر: 051 2012536
برٹش ہائی کمیشن کے بارے میں مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں: www.ukinpakistan.fco.gov.uk
ڈیفیڈ کے بارے میں مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں: www.dfid.gov.uk
مفیدلنکس
UK foreign policy news
-
سب سے بڑا چیلنج افغانستان اور پاکستان ہیں
(24/11/2009)
ملکہ کی تقریر کے اہم پہلووں پر دارالامرا میں بحث- فارن سکریٹری کی تقریر -
برطانیہ میں بین العقائد ہفتہ منایا گیا
(22/11/2009)
فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ برطانیہ میں منایاجانے والا بین العقائد ہفتہ( 15 تا 21 نومبر) ہمارے معاشرے میں مختلف عقائد گروپوں کے کردار کو تسلیم کئے جانے کے لئے "ایک اہم پیش قدمی ہے" -
2009کی پہلی چوتھائی میں 29 فی صد درخواست گزاروں کو پناہ کا حق دیا گیا
(21/11/2009)
برطانیہ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ حقیقی پناہ گزینوں کو ایک محفوظ مقام فراہم کرتا آیا ہے -
ایران میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد
(20/11/2009)
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسلامی جمہوریہ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ایک قرارداد منظور کی ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے -
'میں یہاں گواہ کی حیثیت سے آیا ہوں'
(19/11/2009)
فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے افغانستان کے صدر حامد کرزائی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی